احمد آباد (ایجنسی): تقریبا 27 سال سے گجرات میں برسر اقتدار بی جے پی جو اس مرتبہ کے الیکشن میں زبر دست حکومت مخالف لہر کا سامنا کررہی ہے، نے اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کیلئے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا شوشہ چھوڑا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ریاستی حکومت نے کابینہ میں اس تعلق سے تجویز منظور کروا کے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ میں منظور کی گئی تجویز کے مطابق ہائی کورٹ کے سبکدوش جج کی قیادت میں ۳ سے ۴ ممبروں کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ریاست میں یونیفارم سول کوڈ کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ سونپے گی۔ساتھ ہی اس کمیٹی کو یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لئے اس کا ڈرافٹ تیار کرنے کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس تعلق سے مرکزی وزیر پرشوتم رو پالا کی قیادت میں گجرات بی جے پی کے صدر دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مکمل معلومات دی گئی۔ مرکزی وزیر پرشوتم رو پالا نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” اس ملک میں جس طرح سے ایک جی ایس ٹی ہے ، ایک رام مندر ہے اور دفعہ 370 ہٹا کر ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے خواب کو پورا کیا گیا ہے اسی طرح اب وقت آ گیا ہے کہ قوانین کو بھی سب کے لئے یکساں طور پر نافذ کیا جاۓ ۔‘ رو پالا کے مطابق ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ ہم طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔ اس دور سے جب ہم کالج کی سیاست میں تھے لیکن تب یہ پورا ہونا مشکل تھا مگراب ریاست اور مرکز دونوں جگہ ہم خیال سرکار ہے اس لئے ہمیں امید ہے کہ جلد ہی اس کا نفاذ ہو جاۓ گا۔انہوں نے گجرت کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل کو خاص طور پر مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ جس طرح سے گجرات کی زمین سے ملک کومتحد کرنے والے وزیراعظم نریندرمودی گئے ہیں اسی طرح گجرات کی زمین سے ملک کے قوانین کا اطلاق سب پر کرنے کی تحریک بھی اٹھے گی۔
| ریاست کے پاس ایسا قانون بنانے کااختیارہی نہیں ہے: کانگریس یکساں سول کوڈ کے نفاذ کیلئے کمیٹی بنانے کے اعلان پر گجرات کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام بی جے پی حکومت سے عاجز آچکے ہیں اس لئے وہ اس کی ان چالوں میں نہیں آئیں گے۔ سینئر کانگریس لیڈر ارجن موڈ واڈیا نے کہا کہ یہ عوام کو بے وقوف بنانے اور ان کا دھیان بھٹکانے کی محض ایک چال ہے ۔اس وقت عوام مہنگائی ، بے روزگاری اور دیگر پریشانیوں سے جوجھ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت اسے ختم تو نہیں کرسکی اس لئے اب یکساں سول کوڈ کا شوشہ چھوڑ کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ |
اس دوران نامہ نگاروں نے انہیں ٹوکا کہ یہ کام تو پہلے اتراکھنڈ حکومت نے کیا تھا لیکن وہاں بھی اب تک اس کا نفاذ نہیں ہوا تو پر شوتم رو پالا نے کہا کہ وہاں اس تعلق سے جائزہ لینے کا کام جاری ہے لیکن آپ لوگ یادرکھئے کہ اس سے قبل گجرات میں اس کا نفاذ ہوجاۓ گا کیوں کہ یہاں تمام طبقے چاہتے ہیں کہ ملک کے تمام شہریوں کے لئے یکساں قانون ہو اور اس کی شروعات گجرات سے ہو۔مرکزی وزیر نے یہ وضاحت بھی دینے کی کوشش کی کہ گجرات کے تمام شہری جن میں ہندو مسلمان سکھ، عیسائی سبھی شامل ہیں، یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے حق میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گجرات کابینہ کی کمیٹی نے فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیر اعلی ایک سے دودن میں سبکدوش جج کی سر براہی میں کمیٹی کا اعلان کردیں گے اور کمیٹی کو رپورٹ دینے کا وقت بھی طے کر دیں گے۔
مرکزی وزیر نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا جواز یہ پیش کیا کہ اس کی وجہ سے ملک میں سبھی کے لئے ایک قانون نافذ ہو جاۓ گا اور اس سے ملک میں دیوانی مقدمات کی تعداد نہ کے برابر رہ جاۓ گی اور عدالتوں پر بوجھ بھی کم ہو جاۓ گا۔ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس کا نفاذ کب ہوگا کیوں کہ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان اگلے 10 سے 12 دن میں ہوسکتا ہے تو مرکزی وزیر نے کہا کہ اگلی سرکار ہم ہی بنارہے ہیں اور سر کار بنتے ہی یہ کام کر لیا جاۓ گا۔ گجرات کے وزیر مملکت براۓ داخلہ ہرش سنگھوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی جس طرح سے پورے ملک کو سماجی ، معاشی ، قانونی اور سرحدی طور پر متحد کرنے میں مصروف ہے اس کی ایک مثال گجرات حکومت کا یہ تاریخی فیصلہ ہے۔اس سے ملک کا ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہو گا اور اسے مکمل انصاف ملے گا۔ اس کے ذریعے کسی کی منہ بھرائی نہیں ہوگی بلکہ انصاف کا سر اونچا ہوگا اور ملک ترقی بھی کرے گا۔“